اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حکومت شام کے خلاف برسر پیکار سیکولر تنظیم فری سیرین آرمی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حلب کے اطراف میں داعش کے 250 چیچن دہشت گرد انتہائی خطرناک اور وحشی درندے موجود ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان چیچن درندوں کے ساتھ دو ہزار نوجوان بھی موجود ہیں جو عقائد و افکار کی بنیاد پر داعش میں بھرتی کئے گئے ہیں اور ان میں سے اکثریت کا تعلق شام کے شمالی علاقوں سے ہے جبکہ 15000 افراد خوف یا لالچ کی بنا پر داعش کی حمایت کررہے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس بارے میں لکھا: ایسے حال میں شام میں القاعدہ نیٹ ورک مضبوط ہورہا ہے، شام مخالف تنظیموں میں اعتدال پسند دھڑے شام میں ایک سیاسی مصالحت کی طرف مائل نظر آرہے ہیں۔ مصالحت کے لئے ابتدائی ماحول موجود ہے لیکن کینہ پرور مذہبی دھڑے اور ملک میں موجود سیاسی جمود بظاہر زیادہ طاقتور ہے۔

اس اخبار نے نام نہاد فری سیرین آرمی کے حوالے سے لکھا: داعش میں 5500 غیرملکی دہشت گرد موجود ہیں اور یہ افراد حساس کاروائیوں میں داعش کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ رپورٹ شامی فوج سے الگ ہونے والے میجرجنرل اور فری سیرین آرمی کی سپریم کونسل کے سربراہ سلیم ادریس نے امریکی وزارت خارجہ کو بھجوائی ہے۔

378 شامی بےگناہوں کو ذبح کرنے والا چیچن جلاد
ان غیر ملکی دہشت گردوں کو ان کے آبائی وطن سے بھرتی کیا جاتا ہے اور ان کی منتقلی کی ذمہ داری ایک نیٹ ورک کے سپرد کی جاتی ہے اور اس نیٹ ورک کا سربراہ جانا پہچانا دہشت گرد "ابو احمد العراقی" ہے۔ یہ افراد شام میں داخل ہوتے ہی دھماکہ خیز جیکٹ اور بیلٹ سے لیس کئے جاتے ہیں اور ہر اس فرد کو جیکٹ دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دیتے ہیں جو جرات کرکے ان کا مقابلہ کرنا چاہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش کے بعض دہشت گردوں کا تعلق الرقہ کے 14 خاندانوں اور دیر الزور کے 8 خاندانوں سے ہے۔

فری سیرین آرمی نے اس رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ داعش نامی تنظیم اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں افراد کو اغوا کرتے ہیں اور اس وقت 35 غیر ملکی خبرنگار، 60 شامی سیاستدان اور فری سیرین آرمی کے 100 جنگجو اس کے عقوبت خانوں میں قید ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
دیکھیں:
شام: چیچن دہشت گرد جس نے 378 افراد کو ذبح کیا +تصاویر
شام کی تازہ ترین خبریں:
القلمون میں دہشت گردوں پر حملہ/ سعودی آپریش روم کا انکشاف
کویرس ہوائی اڈے میں 70 دہشتگرد ہلاک/ گودام سے کیا برآمد ہوا؟ دہشت گردوں کی باہم چپقلش